St. Thomas Aquinas آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: "Jesus کے لیے تعریف ہو۔ آج میرا یہاں دوبارہ آپسے بات کرنے کا مقصد پوری ترحیق کی طرف سے روکنا ہے۔ اکثر ایک چیز جو پوری ترحیق کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے وہ حسد کی دل ہے۔ یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ لوگ عام طور پر اپنے دِلوں میں یسے برائی کو پہچان نہیں سکتے اور، اسی لیے اسے نکال نہ سکتے ہیں۔"
"حسد خودی کی ایک اور شکل ہے۔ وہ روح جو خود سے محبت کرتا ہے اس کے روحانی، جسمانی اور عاطفی ضرورتوں کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ اسے بہترین نظر آنا، بہتر کپڑے پہننے، بہترین گھر رکھنے، بہترین خاندان رکھنے، بہترین شہرت حاصل کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ اکثر حسد ایک طماع روح سے پہچانا جا سکتا ہے۔"
"Jesus کے لیے سب سے زیادہ ناپسندیدہ حسد روحانی حسد ہے۔ شخص چاہتا ہے کہ ہر کوئی اس کی طرف سے حاصل ہونے والے نعمتوں کو جانے اور جیسے وہ ہر نعمت کا مصنف ہو، اسی طرح اسے یہیں ملنا چاہیئے۔"
"لیکن حسد صرف بہترین چیزوں کے لیے نہیں ہوتا ہے۔ حسد اپنے پڑوسی کی چیزوں کو بھی چاہتا ہے۔ وہ اپنی پادوشی کی خوشی سے خوش نہ ہوتے، جس میں جسمانی، روحانی یا عاطفی ہو سکتی ہیں، بلکہ اسے خود ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ تو دیکھو کہ طماعت حسد میں بدل جاتا ہے اور حسد غیرت میں تبدیل ہوتا ہے۔"
"لیکن تمام حسد کے پیچھے وہی خود کو کھا جانے والی محبت ہوتی ہے جو ہر گناہ کی جڑیں ہیں۔ اگر یہ خود سے محبت بے چیک ہو جائے تو اسے گھوڑی جیسے بھاگنے دیتی ہے، دل کا قیدی بناتا ہے اور روحانی تباہی یقینی بنا دیتا ہے۔"
"حسد میں ڈوب جانے والی روح خدا کے سامنے اپنی جگہ کو سمجھ نہیں پاتی۔ اگر وہ یہ سمجھتا تو اس وقت کی اللہ کا ارادہ قبول کر لیتا اور خود ہی اپنے لیے زیادہ یا کم کچھ چاہنا نہ دیتا۔"